FreeCurrencyRates.com

इंडियन आवाज़     23 Jun 2018 04:22:55      انڈین آواز
Ad

ایرانی صدر حسن روحانی کا کلمہ کی بنیاد پر اتحاد امت کو یقینی بنانے پر زور

Prez Rouhani in Hyderbad

اسلام اور مسلمان کبھی ختم نہیں ہوں گے، آئندہ صدی اسلام کی ہوگی، صدر اسلامی جمہوریہ ایران کا مکہ مسجد میں خطاب

حیدرآباد/ عالم اسلام میں اتحاد ہوتا تو ایسی صورت میں یروشلم اسرائیل کا صدر مقام تسلیم کیا جانا ممکن نہیں تھا ‘ تمام کلمہ گو مسلمان ہیںاور امت مسلمہ کی بنیاد وحدت ہے اور طبقات کا نظام اسلام میں نہیں ہے۔صدر اسلامی جمہوریۂ ایران ڈاکٹر حسن روحانی نے تاریخی مکہ مسجد سے اپنے خطاب کے دوران ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے امت مسلمہ کو متحد ہونے کی تلقین کی اور کہا کہ حضرت علیؓ نے امت میں صلح صفائی کا حکم دیا ہے۔ نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد شروع ہوئے اس خطاب کے دوران صدر اسلامی جمہوریۂ ایران نے کہا کہ آئندہ صدی اسلام کی صدی ہوگی اور اس اسلامی تمدن کی صدی میں ایشیائی ممالک کا اہم کردار ہوگا۔آقائے حسن روحانی نے امریکی جامعات و کالجس میں ہونے والے قتل عام کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعات عالم اسلام سے تقاضہ کر رہے ہیں کہ وہ دین مصطفی کی حقانیت کو ان تک پہنچائیں جو بے راہ روی کا شکار ہوکر اس طرح کی حرکات کے مرتکب بن رہے ہیں۔ انہوںنے امریکہ کی جانب سے 6مسلم ممالک کے شہریوں پر پابندی عائد کئے جانے پر بھی بالواسطہ تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال بھی آپسی اتحاد کے فقدان کا نتیجہ ہے

انہوں نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ ہندوستان میں گزشتہ سالوں سے قیام امن و سلامتی کی مضبوط صورتحال ہے اور ہماری خواہش ہے کہ بھارت کی تمام قوموں اور ہر مذہب اور عقیدے سے تعلق رکھنے والوں کے درمیان امن، اتحاد اور یکجہتی کی فضا قائم ہو.

ڈاکٹر روحانی نے مزید کہا کہ دوسرے لوگ مسلمانوں کو ذلیل کرنا چاہتے ہیں مگر مسلمان باہمی اتحاد اور یکدلی سے ایسی سازشوں کو ناکام بنادیں گے.

انہوں نے کہا کہ شیعہ،سنی اور دیگر اسلامی فرقوں کا ایک ہی مقصد ہے اور وہ اسلام اور نبی پاک (ص) کے دئے ہپوئے راستے پر چلنا لہذا اسلامی معاشرے میں وحدت اور بھائی چارے کو فروغ دینا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے.

ایرانی صدر نے کہا کہ مستقبل کا تعلق اسلام، ایشیا اور اس خطے میں بسنے والی بڑی تہذیبوں سے ہے، ایران اور بھارت ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے، ہندوستان زندہ باد، ایران زندہ باد.

یاد رہے کہ صدر اسلامی جمہوریہ ایران گزشتہ روز بھارت کے تین روزہ سرکاری دورے پر حیدرآباد پہنچ گئے.

انہوں نے گزشتہ شام حیدرآباد کے مذہی رہنما، اعلی دینی شخصیات، علما، دانشوروں اور عمائدین کے ساتھ ایک خصوصی نشست میں ملاقات کی.

ایرانی صدر آج نماز جمعہ میں شرکت سے پہلے حیدرآباد کے تاریخی مقامات بشمول قطب شاہ کا دورہ بھی کیا.

بھارت کے دورے کے موقع پر صدر حسن روحانی اپنے بھارتی ہم منصب، وزیراعظم نریندر مودی اور خاتون بھارتی وزیر خارجہ سے ملاقاتیں بھی کریں گے اور دونوں ممالک کی کاروباری شخصیات اور بھارتی دانشوروں سے ملاقاتیں متوقع ہیں.

ایران اور بھارت کے اعلی سطحی وفود کے مذاکرات بھی منعقد ہوں گے.

۔صدر ایران کے خطاب کے موقع پر آقائے محمدجواد ظریف وزیر خارجہ ایران‘ علامہ مہدی مہدوی پور‘مولانا حافظ محمد رضوان قریشی خطیب و امام مکہ مسجد‘ ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمد محمود علی‘ بیرسٹر اسدالدین اویسی‘ جناب اے کے خان مشیر حکومت تلنگانہ ‘ جناب الحاج محمد سلیم صدرنشین تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ‘ جناب قمر الدین انجینئر صدرنشین تلنگانہ ریاستی اقلیتی کمیشن ‘ جناب اکبر حسین صدرنشین تلنگانہ ریاستی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن‘جناب مصطفی علی مظفر کارپوریٹر‘ جناب ارشد علی خان رکن اقلیتی کمیشن کے علاوہ دیگر موجود تھے۔صدر اسلامی جمہوریۂ ایران نے مکہ مسجدسے خطاب کے دوران اس بات کا اعلان کیا کہ ایران کی چابہار بندرگاہ ہندستان کے لئے دیگر ممالک تک پہنچنے کا ٹرانزٹ مرکز ثابت ہوگی۔انہوں نے ہندستان اور ہندستانی عوام کی ترقی کیلئے ایران میں موجود بیش قیمتی قدرتی وسائل بالخصوص تیل‘ گیاس و دیگر معدنیات کی فراہمی کا اعلان کیا۔ ڈاکٹر آقائے حسن روحانی نے مسلمانان عالم میں اتحاد و اتفاق کو مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اخلاق حمیدہ و کردار کے ذریعہ ساری انسانیت کو یہ پیغام دیا ہے لیکن آج اس پیغام کو فراموش کرتے ہوئے مسلمان خوار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے نماز جمعہ کو اتحاد و اجتماع کا مظاہرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی تاریخی مکہ مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی اتحاد کے مظاہرہ کی کوشش ہے۔انہوںنے کہا کہ نور اسلام‘ اسلام اور مسلمان کبھی ختم نہیں ہوں گے بلکہ مسلمان اپنے کردار و افکار کے ذریعہ دیگر طبقات تک دین پہنچا سکتے ہیں۔ صدر ایران نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ قرآن مجید کا ہم سے مطالبہ ہے کہ ہم دنیا کو صحیح راستہ دکھائیں اور ہمیں چاہئے کہ ہم قرآن کا حق ادا کرنے میں کوئی کوتاہی نہ کریں بلکہ اسلامی اقدار کے سرمایہ اور سیرت مصطفی ﷺ کو عام کرنے کی کوشش کریں۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ اتحاد امت کو یقینی بنانے کیلئے کلمہ کو بنیاد بنائیں اور دنیا میں صداقت و دیانتداری کو فروغ دیں۔ انہوں نے ہند۔ایران تعلقات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی ہمیشہ یہی خواہش رہی ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات مزید مستحکم ہوں اور ان کے تہذیبی و ثقافتی تعلقات کی طویل تاریخ رہی ہے۔ہندستان میں امن و امان کی برقراری کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کر تے ہوئے صدر ایران نے کہا کہ ہند۔ ایران ایشیائی خطہ میں مستحکم تہذیب و تمدن کے حامل مملکتیں ہیں اور آئندہ صدی جو کہ تہذیب و تمدن کی صدی ہے اس میں یہ ممالک دنیا کی رہبری کر سکتے ہیں۔ انہوں نے آئندہ صدی کو ایشیاء کی صدی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلمان اس بات کو جانیں کہ انہیں اس دنیا میں کیوں بھیجا گیا ہے ۔ ڈاکٹر روحانی نے مسلمانو ںکو آپس میں محبت و اخوت کے ساتھ رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں آپس میں تفرقہ ڈالنے کی کسی کو اجازت نہیں دینی چاہئے ۔ انہوں نے سرکار دو عالم ﷺ کی ذات اقدس کو عالم انسانیت کے لئے رحمت قرار دیتے ہو ئے کہا کہ ہم اگر دوسروں کو اس حقیقت سے واقف کروائیں گے کہ اللہ نے اپنے نبی پاکﷺ کو تمام عالموں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے اور ان کی تعلیمات صرف مسلمانوں کے لئے محدود نہیں ہیں بلکہ ان کی تعلیما ت ساری انسانیت کے لئے ہیں تو ان میں پھیلائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔ ہند ۔ایران تعلقات میں بہتری اور آپسی تعاون کے ذریعہ ترقی و خوشحالی کی منزلوں کو طئے کرنے کے عہد کا اعادہ کرتے ہوئے صدر ایران نے کہا کہ ہمیں اپنے سرمایہ کا بہتر استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر روحانی نے کہا کہ دنیا میں پھیل رہی بے چینی کو صرف ایک چیز دور کرسکتی ہے اور وہ حقیقی اسلامی تعلیمات ہیں اور دنیا کو آج ضرورت ہے ان اسلامی تعلیمات کی جو ہمیں بغرض عمل عطا کی گئی ہیں۔ انہوں نے اتحاد امت کیلئے اختلافات کو فراموش کرنے کے علاوہ اتحاد و اتفاق کو فروغ دینے کی ضرورت کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ اپنی اجتماعیت کو اتحاد کو گزند پہنچنے نہ دیں کیونکہ اتحاد کو لگنے والی گزند سے امت کو نقصان ہو رہا ہے اور جو لوگ ایسا کر رہے ہیں وہ درحقیقت منظم ساز ش کا حصہ بن رہے ہیں۔نماز جمعہ سے قبل صدرایران کی آمد کے سلسلہ میں محکمہ پولیس کی جانب سے خصوصی انتظامات کئے گئے تھے اور ڈی سی پی ساؤتھ زون جناب وی ستیہ نارائنہ اور جناب کے بابو راؤ انتظامات کی راست نگرانی کر رہے تھے۔تاریخی مکہ مسجد میں حسب روایت مولانا حافظ محمد رضوان قریشی خطیب و امام مکہ مسجد نے خطبہ جمعہ دیا اور نماز جمعہ کی امامت کی ۔ خطبہ جمعہ کے دوران انہوں نے مسجد اقصی کے علاوہ فلسطین‘ یمن اور شام کے مسلمانوں کی کامیابی و نصرت کیلئے دعاء کی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Ad
Ad

MARQUEE

ADB to fund Rs 1900 crores for development of Tourism in Himachal Pradesh

By Vinit Wahi Department of Economic Affairs, Union Ministry of Finance, has approved a Tourism Infrastructur ...

Air India marks 70 years since 1st India-UK flight

  Air India is marking 70 years since its first flight took off from Mumbai to London in June 1948, wh ...

@Powered By: Logicsart