FreeCurrencyRates.com

इंडियन आवाज़     15 Dec 2018 05:31:21      انڈین آواز
Ad

اندور میں حضرت امام حسین ؓ کی شہادت کی یاد میں عشرہ مبارکہ میں وزیر اعظم کی تقریر

The Prime Minister, Shri Narendra Modi attending Ashara Mubaraka – Commemoration of the Martyrdom of Imam Husain (SA), organised by the Dawoodi Bohra community, at Saifee Masjid, in Indore, Madhya Pradesh on September 14, 2018.

 

عالی جناب ڈاکٹر سیدنا مفضل سیف الدین صاحب، مدھیہ پردیش کے ہر دل عزیز وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ جی چوہان اور یہاں موجود داؤدی بوہ سماج کے سبھی میرے کنبے کے افراد۔

آپ سبھی کے درمیان میں آنا ہمیشہ مجھے ایک ترغیب کا موقع دیتا ہے، ایک نیا تجربہ دیتاہے۔

عشرہ مبارکہ کے اس مقدس موقع پر بھی آپ نے مجھے یہاں آنے کا موقع دیا اس کے لئے میں آپ کا تہہ دل سے بہت بہت شکر گزار ہوں۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے ملک اور دنیا کے الگ الگ سبھی سینٹروں میں بھی ہمارے سماج کے لوگ ابھی ہمارے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ دور دور ٹیکنالوجی کے ذریعے جڑے ہوئے آپ سبھی کو بھی میں یہاں سلام کرتاہوں۔

ساتھیو! امام حسین ؓ کے مقدس پیغام کو آپ نے اپنی زندگی میں اتارا ہے اور صدیوں سے ملک اور دنیا تک پیغام پہنچایا ہے۔ امام حسینؓ امن اور انصاف کے لئے شہید ہوئے۔ انہوں نے ناانصافی اور تکبر کے خلاف اپنی آواز بلند کی تھی۔ ان کی یہ تعلیم جتنی اس وقت اہم تھی ، اس سے بھی زیادہ یہ آج کی دنیا کے لئے اہم ہے۔ان روایتوں کو خاص طور سے شائع کرنے کی ضرورت ہےاور مجھے خوشی ہے کہ سیدنا صاحب ، بوہرا سماج کا ایک ایک فرد اس مشن میں لگا ہوا ہے۔

ساتھیو! ہم پوری دنیا کو ایک کنبہ ماننے والے‘‘واسودیوا کُٹمبکم’’، ہم وہ لوگ جو سب کو ساتھ لے کر چلنے کی روایت پر عمل کرکے دکھانے والےلوگ ہیں۔ہمارے سماج کی، ہمارے وراثت کی یہی طاقت ہے جو ہمیں دنیا کے دوسرے ملکوں سے الگ پہچان پیدا کرتی ہے۔

مجھے خوشی ہے کہ بوہرا سماج پوری دنیا کو بھارت کی اس قوت سے دنیا کو متعارف کرارہا ہے۔‘‘دنیا میں کہیں پر بھی جائی، وہ مجھے مل جائی کے کیم چھو’’۔

ہمیں اپنے ماضی پر فخر ہے، حال پر یقین اور تابناک مستقبل کی خوداعتمادی کے ساتھ عہد بھی ہے۔میں دنیا میں جہاں بھی جاتا ہوں، امن اور ترقی کے لئے ہمارے سماج کا جو تعاون ہے ، اس کی باتیں میں لوگوں سے ضرور کرتا ہوں۔

ساتھیو!امن، بھائی چارے، ستیہ گرہ اور قوم پرستی کے تئیں بوہرا سماج کا رول ہمیشہ ہمیشہ اہم رہا ہے۔ اپنے ملک سے ، اپنے مادر وطن کے تئیں محبت اور اس کے لئے وقف ہونے کی تعلیم خود سیدنا صاحب اپنے خطبو ں کے ذریعے دیتے رہے ہیں اور ابھی بھی زیادہ وقت انہوں نے ، جتنا بھی بولے ، ہمیں یہی تعلیم دی کہ ہمیں دیش کے لئے ، سماج کے لئے ، اصولوں کے لئے، قانون کے لئے کیسے جینا چاہئے۔

اس سے پہلے مرحوم سیدنا طاہر سیف الدین صاحب نے بھی  گاندھی جی کے ساتھ مل کر ان اقدار کو قائم کرنے میں بہت بڑ ا کردار ادا کیا ہے۔

میں نے کہیں پڑھا تھا کہ دونوں عظیم شخصیات کی ملاقات ٹرین میں سفر کرتے وقت ہوئی تھی، جس کے بعد مہاتما گاندھی اور ان کے درمیان ہمیشہ مسلسل رابطہ قائم رہا اور ہر بڑے واقعے یا تحریک کو لے کر دونوں کے درمیان تبادلہ خیال ہوتا تھا، بات چیت ہوتی تھی۔

ہم سب کو پتہ ہے  ڈانڈی یاترا کے دوران ، جو ہندوستان کی آزادی کا ایک سنہرا ورق ہے، ڈانڈی یاترا۔ ڈانڈی یاترا کے دوران پوجیہ باپو مہاتما گاندھی، سید نا صاحب کے گھر سیفی ولا میں ٹھہرے تھے۔ گاندھی جی کی دوستی اور ان کی اقدار کے تئیں احترام کا اظہار کرتے ہوئے سیدنا طاہر سیف الدین صاحب نے اس سیفی ولا کو آزادی کے بعد قوم کے نام وقف کردیا۔آج وہی سیفی ولا ملک کی نوجوان نسل کو ترغیب دے رہا ہے۔

ساتھیو! بوہرا سماج کے ساتھ میرا بھی رشتہ بہت پرانا ہے اور ابھی سید نا صاحب نے جو ذکر کیا ، میں سچ مچ میں ایک طرح سے خاندان کا فرد بن گیا ۔ ہمیشہ ہمیشہ ، یعنی ایک اپنا پن محسوس کرنا ، کبھی ان کے پاس چلے جانا ، یہ میرا ایک اپنا پن میں محسوس کرتا تھا۔ آج بھی میرے دروازے آپ کے کنبوں کے لئے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔ اور میری خوش قسمتی ہے کہ آپ  کا پیار آپ کے پورے کنبے کا پیار مجھ پر ہمیشہ رہا ہے۔

آج بھی ، ابھی یوم پیدائش تو آنا باقی ہے لیکن آپ سب سے اور اس مقدس پلیٹ فارم سے آپ نے مجھے دعائیں دیں اور دعائیں بھی  قومی فلاح و بہبود کے لئے مجھے زیادہ طاقت عطا کر نے والی  دیں۔ یہ بہت بڑی بات ہوتی  ہے اور اس لئے میں بھی آپ کا دل سے ممنون ہوں ۔

گجرات کا شاید ہی کوئی گاؤں ہو جہاں بوہرا تاجر  سماج کا کوئی نمائندہ وہاں نہ ملے  ۔ میں جب گجرات کا وزیراعلیٰ تھا تب بوہرا سماج نے قدم قدم پر میرا ساتھ دیا۔آپ کا یہی اپنا پن آج مجھے یہاں کھینچ لایا ہے ۔ مجھے یاد ہے کہ کس طرح سیدنا صاحب سے  میں نے ، جو ایک بار سیدنا صاحب پٹنہ سے واپس آ رہے تھے ، ان کو سورت جانا تھا ، وقت نہیں تھا تو میں ایئر پورٹ پر چلا گیا کیونکہ میں نے کہا کہ میں ایسے تھوڑے ہی جانے دوں گا، آپ نہیں آئیں گے تو میں آؤں گا اور  ہم  بہت زیادہ دیر تک ایئر پورٹ پر بیٹھے رہے ، انہوں نے اتنا پیار دیا جیسے ایک چھوٹے بچے کو دیا جاتا ہے۔ اور وہاں باتوں باتوں میں میں  نے  گجرات میں پانی کے بحران کا تذکرہ کیا ۔ چیک ڈیم بنانے کا ذکر کیا  اور مجھے آج بڑے ہی اطمینان کے ساتھ کہنا ہے کہ  اتنی سی ، ہلکی پھلکی بات چیت کو  سیدنا صاحب نے اس عمر اور وہ تقریباً ،98-97  تو پار کر چکے ہوں گے۔ اس وقت شاید 95 تک ہوں گے ، کیونکہ کئی برس ہو گئے ۔ لیکن جاتے ہی انہوں نے  مشن  کے انداز میں اس کام کو ہاتھ میں لیا اور گجرات میں متعدد جگہوں پر آپ کی کوششوں سے مختلف گاوؤں کو چیک ڈیم سے بارش کے پانی کی ذخیرہ اندوزی  کی بڑی مہم  کامیابی طور پر چلائی گئی جس سے گاؤں کو پانی ملا ۔

اتنا ہی نہیں ، آج سے کچھ سال پہلے میں نے ایک پروگرام میں نقصِ تغذیہ  ، اس کے بارے میں ، گجرات میں اس کے خلاف لڑائی لڑنے کے لئے بوہرا سماج سے تعاون مانگا تھا۔ عوامی بیداری مہم چلانے کی اپیل کی تھی۔ اس کو بھی بوہرا سماج نے سیدنا صاحب نے ہاتھوں ہاتھ لیا اور اس سنگین مسئلے کو دور کرنے میں گجرات کی مدد کی ۔

اتفاق دیکھئے ، اس بار جب داؤدی بوہرا سماج عشرۂ مبارکہ کے  اس مقدس موقع پر اکٹھا کر رہا ہے ۔ تب ملک میں ، ہم پورے ملک میں تغذیہ کا مہینہ منا رہے ہیں ۔ تغذیہ مشن کے تحت  چلایا جا رہا ہے ۔ ایک ایک بچہ ، ایک ایک ماں کو محفوظ کرنے کی یہ مہم آج ملک بھر میں جاری ہے۔

آپ سبھی ، ہر بچے کی تعلیم اس کی غذایت ، اس کی صحت کو لے کر کے جو کام کرتے رہے ہیں ، اس نے سماج کو با اختیار بنانے کا کام کیا ہے۔ اور مجھے اطلاع دی گئی ہے کہ پروجیکٹ رائس کے ذریعے سے آپ بھی مہاراشٹر سمیت ملک کے دوسرے حصوں میں بچوں کو تغذیہ دینے کی مہم چلا رہے ہیں۔ آپ کی یہ کوشش قطعی طور پر ملک کے مستقبل کو صحت مند اور با اختیار بنانے میں مدد کرے گی ۔

ساتھیوں ، تغذیہ اور صحت کو لے کر داؤدی بوہرا سماج ہمیشہ بیدار رہا ہے۔  فیض الموید اور تھالی ، کمیونٹی کچن کےذریعے  آپ کو یقینی بنا رہے ہیں کہ سماج کا کوئی بھی شخص بھوکا نہ سوئے۔ اتنا ہی نہیں ملک کے غریب کو متوسط طبقے کو صحت سہولتیں دینے کے لئے آپ درجنوں اسپتال چلا رہے ہیں۔ یونیورسل ہیلتھ کیئر کے تئیں آپ کی یہ سوچ ملک کو ، سماج کو طاقت دیتی رہی ہے  اور مستقبل میں بھی اور مضبوط کرے گی۔

 آپ سبھی یہ بھی جانتے ہیں کہ ملک میں صحت کو پہلی بار سرکار نے اتنی ترجیح دی ہے۔  کم خرچ پر حفظان صحت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔  معیاری اسپتالوں اور صحت اور صحت  مراکز کا  جال بچھایا جا رہا ہے۔  جن اوشدھی مراکز پر سستی دوائیں دستیاب کرائی جا رہی ہیں ۔ مفت ڈائلیسس کی سہولتیں دی گئی ہیں ۔ دل اور گھٹنے کی سرجری کے لئے استعمال ہونے والے سامان کی قیمتوں میں بھاری کمی کی گئی ہے ۔ اب آیوشمان بھارت ملک کے تقریباً 50 کروڑ غریب بھائی بہنوں کے لئے سنجیونی  بن کر کے آیا ہے ۔

  یہ چھوٹا پروگرام نہیں ہے ، امریکہ ، کناڈا ، میکسیکو کی جتنی تعداد ہے اس سے زیاہ لوگوں کے لئے آیوشمان بھارت کا پروگرام ہم ہندوستان میں نافذ کرنے جا رہے ہیں ۔

 پورے یوروپ کی جتنی آبادی ہے تقریباً اتنی لوگوں کو ہندوستان کے اندر صحت کے لئے آیوشمان بھارت کا منصوبہ نافذ ہو رہا ہے ۔ کتنا بڑا کام ، کتنے لوگوں کی بھلائی کے لئے کام اس کا آپ تصور کر سکتے ہیں۔

ایک سال میں پانچ لاکھ روپے تک کا ہر کنبے کو مفت علاج ، یہ چھوڑا فیصلہ نہیں ہے ۔ پچاس کروڑ لوگوں کا ہر کنبے کا پانچ لاکھ روپے کا سالانہ تک کا پورا خرچ ، اس کے علاج کی پوری ذمہ داری کو یقینی بنانے والااس آیوشمان منصوبہ  کا ان دنوں ٹرائل  ابھی پہلے سے ہی چل رہا ہے ۔ اور 25 ستمبر ، جبکہ پنڈت دین دیال اپادھیائے جی  کا یوم پیدائش ہے، اسے ملک بھر میں نافذ کیاجائے گا۔

ساتھیو، تغذیہ   اور صحت خدمات کے ساتھ ساتھ غریبوں، ضرورت مندوں کے لئے گھر دینے کا جو بیڑا   آپ نے اٹھایا ہے، وہ بھی قابل ستائش ہے۔  مجھے بتایا گیا ہے کہ 11 ہزار لوگوں کو    آپ کی کوششوں سے  اپنا گھر مل  چکا ہے۔      حکومت نے بھی 2022 تک   ملک کے ہر غریب بے گھر   بھائی بہن کو پکا گھر دینے کا ہدف رکھا ہے۔

آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ   اب تک 1 کروڑ سے زیادہ  بھائی بہنوں   کو اپنے گھر کی چابی سونپی جاچکی ہے، یعنی اعلان نہیں ان کو گھر کی چابی مل  گئی ہے۔   اور باقی گھروں پر کام  تیز رفتار سے  تکمیل کی جانب  آگے بڑھ رہا ہے۔ اس کے علاوہ   تعلیم او ر ہنر کے فروغ کے میدان میں بھی   آپ کا تعاون اور حکومتوں کی کوششوں کو ایک اور طاقت دیتا ہے۔  کبھی کبھی سماج کی طاقت  اور  حکومت کی طاقت ملتی ہے تو      نتیجہ کہیں زیادہ گنا نکلتا ہے۔   صرف ڈبل ہوتا ہے، ایسا نہیں ہے،  متعدد گنا زیادہ اچھا ہوتا ہے۔    ملک کے     عوام کی زندگی کو    آسان بنانےکے لئے،  معیار زندگی کو اوپر اٹھانے کے لئے ہم لگاتا ر کوشش کرتے رہتے ہیں۔    آگے بڑھتے رہتے ہیں۔

 ساتھیو، غریبوں اور  درمیانے طبقے سے  جڑاہوا  ایک اور موضو ع ہے جس پر   حکومت نے زور دیا ہے۔  وہ موضوع ہے صفائی کا۔    سووچھ بھارت ابھیان   شروع بھلے ہی حکومت نے کیا ہو   ،  لیکن آج اس مہم کو    ملک کے سوا سو کروڑ   خو د ہی آگے بڑھاکر چلا رہے ہیں۔    گاؤں گاؤں ، گلی گلی میں    صفائی کے تئیں   ایک   بے مثال   بیداری   آئی ہے۔

 چار سال پہلے تک  جہاں ملک کے  چالیس فیصد گھروں میں ؛  جب میں وزیراعظم بنا اس سے پہلے    ملک میں صرف 40 فی صد گھروں میں ہی بیت الخلا تھے ۔   ہمارے  ماتاؤں ، بہنوں کو کتنی تکلیف ہوتی ہوگی  ،  اس کا ہم اندازہ لگا سکتے ہیں۔     گھروں میں ٹائلٹ    کی تعداد   جب آیا تھا  میں  چالیس  فی صد تھی، اتنی کم مدت میں اب وہ  90 فی صد تک پہنچ چکی ہے۔   اور مجھے یقین ہے کہ    بہت ہی جلدی  پورا ملک   خود کو    کھلے میں رفع حاجت پاک  ، قرار دینے کی طرف   کامیابی کے ساتھ آگے بڑھے گا۔

 آج ہم جس اندور شہر میں جمع ہوئے ہیں،اس نے تو    صفائی کے  اس انقلاب کی قیادت  کی ہے، لیڈر بن گیا ہے۔   اندور  مسلسل صفائی کے   پیمانوں پر  ملک بھر میں  نمبر ون  رہا ہے۔    اور اس   لئے میں اندور کے سبھی شہریوں کو     ، یہاں کے چنے ہوئے نمائندوں کو یہاں کے کارپوریشن کے     منتظمین کو  ،   یہاں کی ریاستی سرکار کو  ،   یہاں کے وزیراعلی شیو راج جی کو ان کی پوری ٹیم کو   تہہ  دل سے   بہت بہت  مبارک باد دیتا ہوں۔

اندر ہی نہیں بھوپال   نے بھی اس بار کمال کردیا ہے۔  ایک طرح سے پورے مدھیہ پردیش کے میرے نوجوان ساتھی ، ایک ایک  فرد  نے   اس  تحریک کو  رفتار دی ہے۔    صفائی اور ماحولیات کے تقدس کو یقینی بنانے میں آپ کے سماج کے تعاون سے بھی  ملک اچھی طرح    واقف ہے۔  سیدنا صاحب  تو خود صفائی اور ماحول کے تحفظ کے تئیں   بیدار ہی ہیں  اور مجھے یاد ہے کہ بڑے سیدنا صاحب  صد سالہ  تقریب اور  اس پروگرام میں    مجھے بلایا گیا تھا۔

 پتہ نہیں  اور لوگ کیسے صد سالہ تقریبات مناتے ہیں یا سالگرہ مناتے ہیں ؟ اس دن ہم لوگوں نے،   آپ کو بھی یاد ہے     گوریا بچانے کے لئے اپنی  چکلی بچانے کے لئے تحریک چھیڑ دی ۔    ہر ایک کو   باکس دیا گیا جس کے اندر  وہ اپنا گھونسلہ  بنائے۔   یہ  ماحولیات کا تحفظ  نہیں تو اور کیا ہے  جی  ۔  یہ ہمارے   اقدار ہیں  اور انہوں نے      دل کے تقدس کو   ہمارے   ماحول کے صفائی اور  پاکیزگی سے جوڑا ہے۔

مجھے بتایا گیا ہے کہ ابھی سیدنا صاحب نے یہی کہا۔     صفائی دل کی  اور من کی بھی کرنی ہے۔    مجھے بتایا گیا ہے  کہ اندور کی مقبولیت  کو دھیان میں رکھتے ہوئے عشرہ مبارکہ کے     انقعا د کو ماحولیات اور صفائی کے پیغام کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔

یہاں پلاسٹک بیگ پوری طرح بین کئے گئے ہیں ۔    اس پورے   انعقاد کو   زیرو ویسٹ   یعنی کچرے سے پاک بنانے کا عزم لیا گیا ہے۔  یہاں روزانہ تقریباً 10 ٹن کچرے کو   ری سائیکل کرکے    فرٹیلائزر میں بدلنے کا کام کیا جارہا ہے اور پھر    اس کو مفت میں  کسانوں کو بانٹا جارہا ہے۔

 ان سب  کاموں سے آپ سبھی    ماحولیات کی خدمات تو کررہی رہے ہیں، کچرے کو توانائی      میں بدلنے   کا سرکار کا جو ویژن ہے ، اس کو بھی آپ بدل دے رہے ہیں۔ ساتھ ہی کسان بھائی بہنوں کے لئے     یہ آپ کا   قدم فائدہ مند ہونے والا ہے۔   میرا تو ملک بھر سے    سووچھ گرہیوں   سے   درخواست ہے کہ  اس طرح   پروگراموں سے سبق لے کر    صفائی سے جڑے جو ہمارے آگے کے پروگرام ہیں،   ان میں بھی   کچرے کو توانائی  میں  تبدیل  کر دینے پر زور دیا جائے۔

  کل،  15 ستمبر کو    سووچھتا ہی سیوا –  2 اکتوبر تک  ،  گاندھی جیتی پر – سووچھتا ہی سیوا   پکھواڑہ شروع ہورہا ہے ۔ اس دوران بھی     ہم یہ تجربہ   ملک بھر میں  کرسکتے ہیں۔  یہ پروگرام  پچھلے سال کی طرح ہی مہاتما گاندھی کی جینتی یعنی 2 اکتوبر تک چلے گا۔

میں کل خود ملک کے  سوؤچھا گرہیوں سے سماج میں صفائی کے تئیں عوامی بیداری پیداکرنے والے ملک کے تمام  مذہبی رہنماؤں، تمام فنکاروں،تمام کھلاڑیوں، صنعت کاران اور سماج کے جتنے بھی سرکردہ زمرے کے لوگ ہیں، ان سب کے ساتھ کل صبح ساڑھے 9 بجے ویڈیو کانفرنس کے توسط سے گفت وشنید کرنے والا ہوں اور اس کے بعد دنیا کا ایک  بہت بڑا ریکارڈ بنے گا۔ ایک ساتھ کروڑوں لوگ کل سوؤچھتا کا کام کرنے والے ہیں۔

اتنا ہی نہیں، 2؍اکتوبر سے مہاتما گاندھی کی 150ویں سالگرہ کے پروگرام شروع ہونے والے ہیں اور سیدنا صاحب نے بھی ہمیں محترم باپو کی 150ویں سالگرہ کے لئے پیغام دیا ہے۔اگلے دو سالوں تک چلنے والے ان پروگراموں کے درمیان صفائی سمیت باپو کے بتائے ہوئے راستے پر چلنےکے لئے ملک اور دنیا کی حوصلہ افزائی کریں گے۔

آج یہاں اندور میں آپ سبھی کے درمیان میں داؤدی بوہرا سماج کو اور مدھیہ پردیش کے میرے بھائی بہنوں کو صفائی کی اس تحریک سے مربوط ہونے کی میں دعوت دینے آیا ہوں۔

ساتھیو، آج اس موقع پر میں بھی آپ سبھی کی ایک اور موضوع پرستائش کرنا چاہتا ہوں۔ آپ میں سے بیشتر کاروبار اور تجارت سے جڑے ہوئے ہیں۔ قواعد اور اصول سے کام کیسے کیاجاتا ہے،  نظم و ضبط میں رہتے ہوئے کاروبار کو آگے کیسے بڑھایا جاتا ہے۔ آپ نے اس معاملے میں مثال پیش کی ہے اور ابھی سیدنا صاحب نے ہم کو وہی سیکھ دی۔ بار بار سیکھ یہی دی جاتی ہے، یہ چھوٹی بات نہیں ہے۔ داؤدی  بوہرا سماج دنیا  میں جہاں جہاں بسا، ان اقدار سےاس نے اپنی ایک الگ شناخت بنائی ہے، ایک نئی عزت بنائی ہے۔

ایمانداری، سچائی اور  دیانتداری کے ساتھ تجارت سے زندگی کیسے چلتی ہے، اس کی مثال آپ سب نے اپنے برتاؤ کے ذریعے پیش کی ہے۔ ملک کا تاجر اور کاروباری ، وہ معیشت کی ریڑھ ہوتا ہے، وہ دیش میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے والی اہم اکائی ہے۔ اس کو جتنا حوصلہ افزائی ممکن ہو، موجودہ بھارت کی حکومت اور جہاں جہاں ریاستوں میں ہم کو خدمت کرنے کا موقع ملا ہے، یہ ہماری ترجیح ہے، ہم دے رہے ہیں۔

لیکن یہ بھی سچ ہے کہ پانچوں انگلیاں ایک برابر نہیں ہوتی ہیں۔ ہمارے درمیان سے ایسے لوگ نکلتے ہیں، جو فریب کو ہی کاروبار مانتے ہیں۔ گزشتہ 4برسوں میں سرکار یہ صاف پیغام دینے میں کامیاب ہوئی ہے کہ جو بھی ہو ، وہ اصولوں کے دائرے میں ہونا چاہئے۔ جی ایس ٹی ،  دیوالیہ پن اور دیوالیہ قرار دیئے جانے سے متعلق ضابطہ جیسے متعدد قوانین کے توسط سے ایماندار تاجروں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے اور اس کا سب سے زیادہ فائدہ کوئی اٹھا رہا ہے، تو وہ میرا بوہرا سماج اٹھا رہا ہے۔

یہ ایک بڑی وجہ ہے کہ 4برسوں کے اندر اندر ملک بھر کے، دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا ہے۔ آج صورتحال یہ ہےکہ میک ان انڈیا کے تحت موبائل فون ہوں، گاڑیاں ہوں یا پھر دوسرےسامان، ریکارڈ پیداوار آج ہمارے یہاں ہو رہی ہے۔ ریکارڈ سطح پر سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ گزشتہ سہ ماہی میں 8 فیصد سے زائد شرح نمو آپ  سبھی کی کوششوں سے ، سواسو کروڑ اہل وطن کی محنت سے ملک نے حاصل کی ہے، جو دنیا کی بڑی معیشت میں سب سے تیز رفتار سے آگے بڑھنے والی ہے۔

اب دہائی کی شرح نمو پر ملک کی نظر ہے اور جس رفتار سے ہم آگے بڑھ رہے ہیں، وہاں تمام چنوتیوں کے باوجود ملک کی طاقت ہے، ملک پہنچ سکتا ہے اور میرا بھی اعتماد ہے۔

ساتھیو، دنیا بھر میں بھارت کے تئیں خیر سگالی کا ماحول بنانے میں آپ سبھی ایک اہم کردار نبھا رہے ہیں۔ دنیا میں جس طرح قدیم بھارت کی چمک تھی، آج نیو انڈیا کو وہ احترام دینے کی خوش بختی ہم سب کو ملی ہے۔

ملک کی تعمیر نو کے لئے ہم لگاتار مل کر آگے بڑھتے رہیں گے، اسی یقین کے ساتھ میں اپنی بات ختم کرتا ہوں۔ آپ سبھی کا ایک بارپھر بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں۔ سیدنا صاحب کا ، ان کے کنبے کے افراد کے تئیں میں دلی تشکر  پیش کرتا ہوں اور مجھے لگاتار محبت ، شفقت، دعا آپ سب کی طرف سے ملتی رہی ہے۔ آپ کی دعا ، یہ میری امانت ہے، یہ میری طاقت ہے، یہ طاقت میرے لئے نہیں ہے، صرف اور صرف سواسو کروڑ اہل وطن کے لئے ہے۔ یہ دعا،  یہ قوت ، یہ اہلیت میں اہل وطن کے قدموں میں  نذر کرتے ہوئے میں پھر ایک بار  آپ سب کا دل سے خیر مقدم کرتا ہوں۔

شکریہ!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Ad
Ad

SPORTS

Saina Nehwal ties the knot with Parupalli Kashyap

SAINA INSTAGRAM WEB DESK India's Ace shuttler Saina Nehwal gave surprise to her fans as she posted a photogr ...

Australia chase history, Dutch thirsting for a revenge in Hockey World Cup

Harpal Singh Bedi/ Bhubaneswar As three-time champion Australia takes on the Netherlands in the semi-finals o ...

Hockey World Cup: India loose to Netherlands 2-1 in quarter final

India fails to break the jinx, goes down 1-2,  out of World Cup Hockey India Harpal Singh Bedi / Bhuban ...

Ad

MARQUEE

Major buildings in India go blue as part of UNICEF’s campaign on World Children’s Day

Our Correspondent / New Delhi Several monuments across India turned blue today Nov 20 – the World Children ...

US school students discuss ways to gun control

             Students  discuss strategies on legislation, communities, schools, and mental health and ...

CINEMA /TV/ ART

Malayalam, Ladakhi films win big at IFFI

By Utpal Borpujari / Panaji (Goa) Indian cinema scored big at the 49th International Film Festival of India ( ...

Bollywood playback singer Mohammad Aziz passes away

WEB DESK Well known Bollywood playback singer Mohammad Aziz passed away in Mumbai today. He was 64. The singe ...

Ad

@Powered By: Logicsart