FreeCurrencyRates.com

इंडियन आवाज़     27 Mar 2017 12:33:01      انڈین آواز

امریکا سے تارکین وطن کے ناجائز انخلا کا خطرہ،:اقوام متحدہ

جنیوا /
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر نے کہا ہوئی کے امریکا میں صدر ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں کے باعث تارکین وطن کی بڑی تعداد میں غیر قانونی ملک بدریوں کا خطرہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا کو بہتر قیادت کی ضرورت ہے۔

Trum adress to congress  عالمی ادارے کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر زید رعد الحسین کے مطابق کافی زیادہ خدشہ ہے کہ جنوری میں صدارتی منصب سنبھالنے والے ریپبلکن ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن اور تارکین وطن سے متعلق متنازعہ پالیسیوں کے نتیجے میں بچوں اور خواتین سمیت تارکین وطن کو بڑی تعداد میں حراست میں لیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح ایسی اجتماعی بے دخلیاں بھی شروع ہو سکتی ہیں، جو مروجہ بین الاقوامی قانون کے بالکل منافی ہوں گی۔

ہائی کمشنر الحسین نے یہ بات ٨ مارچ کے روز جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل سے اپنے سالانہ خطاب میں کہی۔
رعد الحسین نے کہا کہ اس طرح کی کارروائیوں سے امریکا میں میکسیکو سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن یا مسلمانوں کی طرح کی پوری کی پوری نسلی اور مذہبی برادریوں کے خلاف متعصبانہ اور امتیازی رویوں کو تقویت ملے گی۔
الحسین نے ہیومن رائٹس کونسل سے اپنے اس خطاب میں امریکی صدر ٹرمپ کو خاص طور پر تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ امریکا کو ’’مردم بیزاری اور بڑھتے ہوئے نسلی اور مذہبی امتیاز کے باعث اپنے ہاں پیدا ہونے والے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے بہتر قیادت کی ضرورت ہے۔‘‘

اپنے کلیدی خطاب میں رعد الحسین نے مزید کہا کہ کہ واشنگٹن میں نئی ملکی انتظامیہ مختلف بنیادی مسائل کے بارے میں جو رویے اپنائے ہوئے ہے، ان پر انہیں گہری تشویش ہے۔

اقوام متحدہ کے اس ہائی کمشنر نے یہ بھی کہا کہ جس طرح ڈونلڈ ٹرمپ، ان کے بقول، صحافیوں اور ملکی ججوں تک کو نیچا دکھانے کی کوششیں کر رہے ہیں، وہ ایک ’ناامید اور بیزار‘ کر دینے والی حقیقت ہے۔

اپنی تقریر میں زید رعد الحسین نے صرف امریکا اور ڈونلڈ ٹرمپ پر ہی تنقید نہیں کی بلکہ انہوں نے مہاجرین کے بحران کے تناظر میں یورپی ملکوں کی سیاست میں خامیوں اور نقائص کی نشاندہی بھی کی۔

انہوں نے کہا کہ یورپی سیاستدان بھی ایسے پیغامات پھیلا رہے ہیں، جن میں ’خوف پیدا کرنے والا‘ یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ جیسے مہاجرین اور تارکین وطن کی صورت میں یورپ کا رخ کرنے والے کوئی مجبور اور پناہ کے حقدار انسان نہیں بلکہ ’یلغار کر دینے والے مجرموں کے گروہ‘ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے کسی غلط تاثر کا پیدا کرنا اور پھیلایا جانا انتہائی افسوس ناک ہے کیونکہ عام یورپی باشندوں کی اکثریت نے اب تک مہاجرین کا خیر مقدم کرتے ہوئے ان سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

ٹرمپ نے سفری پابندیوں کے نئے حکم نامے پر دستخط کر دیے

دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کے سفر کے حوالے سے پابندیوں پر مشتمل نئے صدارتی حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس حکم نامے کے ذریعے چھ مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں.
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے چھ مارچ کو دستخط کردہ نئے صدارتی حکم نامے میں سے عراق کا نام خارج کر دیا گیا ہے۔ نئے حکم نامے میں اب چھ مسلم اکثریتی ممالک ایران، لیبیا، شام، صومالیہ، سوڈان اور یمن شامل ہیں۔ ان ممالک کے شہریوں پر اگلے 90 دن کے لیے امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس پابندی کا اطلاق 16 مارچ سے ہو گا اور خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ پابندیاں ویزا حاصل کرنے کی نئی درخواستوں پر عائد کی گئی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ایسے تمام افراد جن کے پاس امریکا کا ویزا پہلے سے موجود ہے، انہیں امریکا کا سفر کرنے کی اجازت ہو گی۔
امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹِلرسن نے صحافیوں کو بتایا کہ عراق کو اس فہرست سے اس لیے خارج کیا گیا ہے کیونکہ عراقی حکومت نے مسافروں کی جانچ پڑتال کے حوالے سے نئے طریقہ کار کا اطلاق کر دیا ہے اور اس کے علاوہ یہ ملک داعش کے خلاف لڑائی میں امریکا کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔
ابتدائی پابندیوں کے بعد امریکا کے مختلف شہروں میں صدر ٹرمپ کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے تھے
انہوں نے ان پابندیوں سے متاثر ہونے والوں کو پیغام دیا، ’’دنیا بھر میں ہمارے اتحادیوں اور پارٹنرز کو برائے مہربانی یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ حکم نامہ ان خامیوں اور کمیوں کو دور کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے، جن سے مسلم دہشت گرد فائدہ اٹھا کر نقصان پہنچانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔‘‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 جنوری کو عہدہ صدارت سنبھالا تھا۔ اس کے صرف ایک ہفتہ بعد یعنی ستائیس جنوری کو انہوں نے ایک صدارتی حکم نامہ جاری کیا تھا، جس میں سات مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی، جن میں عراق بھی شامل تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے جنوری میں جاری کردہ ایگزیکٹو آرڈر کے بعد امریکا کے درجنوں بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر اس وقت انتہائی پریشان کن صورت حال پیدا ہو گئی تھی، جب باقاعدہ ویزا لے کر آنے والے ہزاروں غیر ملکیوں کو امریکا میں داخلے کے اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔ تب امریکا کے مختلف شہروں میں صدر ٹرمپ کے خلاف مظاہرے بھی شروع ہو گئے تھے۔ اس کے علاوہ دنیا بھر سے اس فیصلے پر شدید تنقید بھی دیکھنے میں آئی تھی۔

ابتدائی حکم نامے کے ردعمل میں امریکا کی مختلف عدالتوں میں قریب دو درجن مقدمات درج کرائے گئے تھے۔ تین فروی کو ایک امریکی عدالت نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ایسے افراد کو امریکا میں داخلے کی اجازت دے دی تھی، جو ہوائی اڈوں پر پھنسے ہوئے تھے۔
امریکی محکمہ انصاف کے اندازوں کے مطابق ابتدائی پابندی کے سبب قریب 60 ہزار افراد کو جاری کردہ ویزے معطل کر دیے گئے تھے تاہم امریکی انتظامیہ کے سینیئر اہلکاروں کا کہنا تھا کہ ایسے تمام ویزا رکھنے والے افراد اب امریکا کا سفر کر سکتے ہیں۔

Ad
Ad
Ad

SPORTS

4th Test IND vs AUS: Team India 248/6, trail by 52 runs

Indian batsmen frittered away the initial advantage before reaching 248 for 6 against a disciplined Australia ...

India wins 73 medals in 2017 Special Olympics World Winter Games including 37 golds

India’s special athletes gave an impressive performance and won 73 medals in the recently concluded 2017 Spe ...

Ad

Archive

March 2017
M T W T F S S
« Feb    
 12345
6789101112
13141516171819
20212223242526
2728293031  

OPEN HOUSE

NEPAL TRAGEDY: PHOTO FEATURE

[caption id="attachment_30524" align="alignleft" width="482"] The death toll from Saturday's deadly 7.9 magnit ...

@Powered By: Logicsart