FreeCurrencyRates.com

इंडियन आवाज़     20 Mar 2019 06:21:14      انڈین آواز
Ad

اقلیتی کمیشن کا زی نیوز کو نوٹس

Zee Talibani Burqa

نئی دہلی:

پچھلی ۲۸ مئی کو کیرانہ میں ضمنی انتخابات کے دوران عین ووٹنگ کے دن زی نیوز نے کیرانہ سے برقعہ پوش مسلم عورتوں کی تصویریں دکھا کر سنسنی خیز طریقے سے برقعوں کو ’’طالبانی ‘‘بتایا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ ’’دھیرے دھیرے بھارت کے مسلمانوں کو کٹر بنایا جارہا ہے‘‘۔سدھیر چودھری کی اینکر کی ہوئی اس رپورٹ میں بوڑھی برقعہ پوش مسلم عورتوں کوبار بار دکھا کر ان کے برقع کو ’’طالبانی برقعہ ‘‘ کہا گیا اور دعوی کیا گیا کہ علاقے کے مسلمان وہابیت سے متاثر ہیں اور وہاں کے مسلمان طالبان کے نظریے والے اسلام کی تبلیغ کررہے ہیں۔ بار بار برقعہ پوش عورتوں کو دکھا کر بتایا گیا کہ ’’بھارت میں طالبانی سوچ درانداز کررہی ہے‘‘، ’’طالبانی برقعہ کا تاریخی ڈی این اے ٹسٹ‘‘ ، ’’دیکھئے ! کیرانہ میں طالبانی برقع کا کیا کام؟‘‘ ۔

اس سنسنی خیز رپورٹ کے ساتھ ساتھ مذکورہ چینل کی ویب سائٹ پراسی دن ایک مضمون بھی شائع ہوا جس کا عنوان ہے: ’’دھیرے دھیرے بھارت کے مسلمانوں کو کٹر بنایا جارہا ہے‘‘۔ اس مضمون میں کہا گیا کہ ’’ ہندوستانی مسلمانوں کو طالبانی بنایا جارہا ہے اور یہ کڑوا سچ ہے‘‘، ’’یہ ہندوستانی مسلمانوں کے ڈی این اے کو بدلنے کی کوشش ہے‘‘، ’’کیرانہ کے مسلمان فرقہ پرستی اور مذہب پر مبنی سیاست کی لیباریٹری بن گئے ہیں‘‘، ’’طالبانی سوچ افغانستان سے نکل کر پاکستان ہوتے ہوئے ہندوستان میں گھس پیٹھ کرچکی ہے‘‘۔

واضح طریقے سے یہ سب ہندوستانی مسلمانوں کو بدنام کرنے ، ان کے خلاف نفرت پھیلانے اور ایک ایسی کہانی کے ایجاد کرنے کی کوشش تھی جس کی کوئی اصل نہیں ہے ۔اس قسم کی رپورٹنگ تعزیرات ہند کی دفعہ۲۹۵؍ اے (کسی قوم کے مذہبی اعتقادات کی اہانت کرکے اس کے خلاف نفرت پھیلانا) اور دفعہ ۵۰۵ (افواہیں پھیلانا)کے تحت قابل گرفت ہے۔ اسی طرح عین الیکشن کے دن چلایا جانے والا یہ پروگرام تعزیرات ہند کی دفعہ ۱۷۱ ؍سی کے تحت بھی قابل گرفت ہے کیونکہ اس کا مقصد ووٹروں کی قطب بندی اور ان کوفرقہ وارانہ بنیادوں پر متاثر کرنا ہے۔

دہلی اقلیتی کمیشن نے اس سلسلے میں زی نیوز کے مینیجنگ ڈائرکٹر کو نوٹس جاری کرکے ہدایت دی ہے کہ دستاویزی ثبوت کے ساتھ جواب دیں کہ کیسے کیرانہ کی عورتیں طالبانی ہوچکی ہیں، کب اور کیسے طالبانی سوچ کیرانہ پہنچی، کیا کیرانہ کی معمر عورتوں کا برقعہ وہی نہیں ہے جو علاقے کی عورتیں صدیوں سے پہنتی آ رہی ہیں اور کیا براڈ کاسٹ کی جانے والی یہ رپورٹ ووٹروں کو متاثر کرنے اور ان کی قطب بندی کی کوشش نہیں تھی۔ اگر زی نیوز کے مینجنگ ڈائرکٹر ان باتوں کا ثبوت کے ساتھ جواب نہ دے سکیں تو لکھ کر غیر مشروط معافی مانگیں اور بتائیں کہ رپورٹ کی رپورٹنگ کرنے والے اور اس کو لکھنے والے اسٹاف کے خلاف کیا کارروائی کی گئی کیونکہ انہوں نے ہندوستانی شہریوں کے خلاف نفرت پھیلانے کا کام کیا اور فرقہ پرست اور مذہبی بنیادوں پر ان کو بدنام کیا۔ زی نیوز کو یہ تعہد بھی داخل کرناہے کہ مستقبل میں وہ اس طرح کی رپورٹوں کو نشر کرنے سے احتراز کرنے گا۔ نوٹس کا مثبت جواب نہ دینے کی صورت میں اقلیتی کمیشن مذکورہ چینل کے خلاف کارروائی کرے گا۔ چینل کو جواب دینے کے لئے دو ہفتے کا وقت دیا گیا ہے۔

اسی کے ساتھ صدر اقلیتی کمیشن ڈاکٹر ظفرالاسلام خان الیکشن کمیشن اور نیوز براڈکاسٹنگ اسٹینڈرڈز اتھارٹی کو بھی خط لکھ کر مذکورہ چینل کے خلاف ایکشن لینے کے لئے لکھ رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Ad

POLITICS

Mamata Dares PM Modi, Amit Shah to Compete With Her on Chanting Mantras

Accusing the BJP of only playing politics over the Ram Mandir issue, the West Bengal chief minister said her g ...

J&K: Former IAS Shah Faesal launches political party

The new party has been named Jammu and Kashmir Peoples’ Movement and its dominant slogan would be Ab Hawa Ba ...

BJP’s Pramod Sawant to be sworn in as Goa CM today

2 Allies Get Deputy Posts     Panaji Former Speaker of the Goa legislative assembly and BJ ...

SPORTS

India gears up to face Bangladesh in SAFF women football

Biratnagar (Nepal) A confident India is fully geared up to face Bangladesh in the semi final of the SAFF Wo ...

PCB pays over Rs 11 cr as compensation to BCCI after losing case in ICC

  The Pakistan Cricket Board (PCB) has paid 1.6 million US dollars, equivalent to over eleven crores in ...

Gopi Thonakal qualifies for World Athletics Championships

In marathon, India's Asian champion Gopi Thonakal has qualified for the World Athletics Championships to be he ...

Ad

MARQUEE

116-year-old Japanese woman is oldest person in world

  AMN A 116-year-old Japanese woman has been honoured as the world's oldest living person by Guinness ...

Centre approves Metro Rail Project for City of Taj Mahal, Agra

6 Elevated and 7 Underground Stations along 14 KmTaj East Gate corridor 14 Stations all elevated along 15.40 ...

CINEMA /TV/ ART

Priyanka Chopra is among world powerful women

AGENCIES   Bollywood actress Priyanka Chopra Jonas has joined international celebrities including Opr ...

Documentary on Menstruation stigma ‘Period’ wins Oscar

  WEB DESK A Netflix documentary Period. End of sentence, on the menstruation taboo in rural India has ...

Ad

@Powered By: Logicsart