Ad
FreeCurrencyRates.com

इंडियन आवाज़     15 Nov 2018 03:03:57      انڈین آواز
Ad

اردو : غیر ملکی خبریں

انڈونیشیا کا طیارہ 188 مسافروں سمیت سمندر میں گر کر تباہ
جکارتہ،29اکتوبر( اے یوایس ) انڈونیشیا میں حکام کے مطابق فضائی کمپنی لائن ایئر کا ایک مسافر بردار طیارہ جکارتہ سے پرواز کرنے کے بعد سمندر میں گر کر تباہ ہوگیا ہے۔فلائٹ JT610 انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ سے بنگکا بیلی ٹنگ جزائر کے شہر پنگکال پینانگ جا رہی تھی۔ ایک پریس کانفرنس میں حکام کے مطابق فلائٹ پر تین بچوں سمیت 178 افراد سوار تھے۔ طیارے میں دو پائلٹ اور عملے کے پانچ ارکان بھی شامل تھے۔اب تک کسی کے زندہ بچنے کی اطلاع نہیں ملی۔انڈونیشیا کی قومی سرچ اور ریسکیو ایجنسی کے ترجمان یوسف لطیف نے نمائندوں کو بتایا: ‘اس بات کی تصدیق ہو چکی ہے کہ طیارہ حادثے کا شکار ہو گیا ہے۔’ریسکیو اور سرچ آپریشن جاری ہے اور انڈونیشیا کی ڈزاسٹر ایجنسی کے ترجمان سوتوپو پرؤہ نگروہو نے ٹوئٹر پر چند تصاویر بھی جاری کی ہیں جن کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ جہاز کے ملبے کی ہیں۔طیارے نے مقامی وقت کے مطابق صبح چھ بج کر 20 منٹ پر اڑان بھری۔ماضی میں بھی اسی ایئر لائن کا ایک اور طیارہ بھی حادثے کا شکار ہوا تھا، تاہم اس وقت کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔اسے پانگکل پینانگ کے دیپتی امیر ایئرپورٹ ایک گھنٹے میں پہنچنا تھا، لیکن پرواز کے 13 منٹ بعد ہی اس کا کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہو گیا۔پنگکال پنانگ کے سرچ اور ریسکیو آفیسر دانانگ پریاندوکو نے مقامی نیوز چینل کومپاس کو بتایا کہ پائلٹ نے جکارتہ کے سوئیکارنو ہاتا بین الاقوامی ہوائی اڈے پر واپسی کی درخواست کی تھی۔جبکہ انڈونیشیا کے ڈیزاسٹر ایجنسی کے سربراہ ستوپو پوروو نوگروہو نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ طیارے کا ملبہ اور اس پر سوار لوگوں کا سامان سمندر میں تیرتے نظر آئے ہیں۔انھوں نے ایک ویڈیو بھی جاری کی جس میں جہاز کا ملبہ اور تیل سمندر پر تیرتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔لائن ایئر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پائلٹ اور معاون پائلٹ تجربہ کار تھے اور انھوں نے مشترکہ طور پر 11 ہزار گھنٹے کی پرواز کر رکھی تھی۔طیارے پر تین فضائی میزبان بھی موجود تھے جو زیرِ تربیت تھے جبکہ ان میں سے ایک ٹکنیکل سٹاف تھا۔بی بی سی کو پتہ چلا ہے کہ اس جہاز میں انڈونیشیا کی وزارتِ مالیات کے کم از کم 20 اہلکار سوار تھے۔وزارتِ مالیات کی ایک ترجمان نے بتایا کہ وہ سب پانگکال پینانگ میں قائم وزارت کے دفتر میں کام کرتے تھے اور وہ ہفتے اور اتوار کو جکارتہ میں تھے۔ ان کے مطابق وہ عموماً یہ پرواز لیتے تھے۔بوئنگ کا 737 طیارے کا یہ ماڈل ?? MAX 8 تھا جس کا سب سے پہلا طیارہ لائن ایئر گروپ ہی کی کمپنی باتک کو 2016 میں ڈلیور کیا گیا تھا۔ لائن ایئر کے پاس موجود یہ طیارہ صرف دو مہینے پرانا تھا اور رواں سال 15 اگست کو ایئرلائن کو ڈلیور کیا گیا تھا۔مختصر سے درمیانی فاصلے تک پرواز کرنے والے طیارے میں زیادہ سے زیادہ 210 مسافر سفر کر سکتے تھے۔ایک بیان میں بوئنگ نے اس میں سفر کرنے والے افراد کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حادثے کی جانچ میں تکنیکی تعاون دینے کے لیے تیار ہے۔ہم گاہے بگاہے اس خبرکو اپ ڈیٹ کر رہے ہیں کیونکہ ابھی اس حادثے کے حوالے مزید اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی کوئی تجویز زیر غور نہیں
اسلام آباد ،29اکتوبر ( اے یوایس ) پاکستان کے صدر عارف علوی نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی نہ کوئی تجویز زیر غور آئی ہے نہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کیے جا رہے ہیں۔یہ وضاحت صدر عارف نے اتوار کو استنبول روانگی سے قبل میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران کہی۔تاہم دوسری جانب اپوزیشن جماعت جے یو آئی ایف کے رہنما مولانا فضل الرحمن نے اپنے ایک بیان میں اسرائیلی طیارے کی پاکستان آمد کی خبر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارہ اتر چکا ہے اور آدھی تصدیق تو عمان کی حکومت نے کی ہے۔خیال رہے کہ گذشتہ دو روز کے دوران سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر اسرائیلی طیارے کی پاکستان آمد کی خبر گردش کرنے کے بعد پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ایک بیان میں اسے مسترد کیا ہے۔’کسی اسرائیلی طیارے کی پاکستان کے کسی بھی ایئرپورٹ پر آمد کی افواہ میں قطعی کوئی صداقت نہیں کیونکہ ایسا کوئی طیارہ پاکستان کے کسی بھی ایئرپورٹ پر نہیں اترا۔’یہاں سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ پاکستان جس کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں کیا دونوں ملکوں میں حالیہ طور پر ہونے والی مبینہ ملاقات یا رابطہ دونوں ملکوں کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔مسلم دنیا کے اہم ممالک ترکی، اردن، عمان اور مصر کے اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات ہیں۔ لیکن پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور اس کے اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ اسی فہرست میں پاکستان کے ساتھ ایران بھی شامل ہے۔کچھ ماہ قبل سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ اسرائیل کو اپنی سرزمین کا حق حاصل ہے۔سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان فی الحال کوئی سفارتی تعلقات نہیں ہیں تاہم دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں گذشتہ چند سالوں میں بہتری آئی ہے۔ 2003 میں بھی سابق صدر مشرف نے پاکستان اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کرنے کے حوالے سے قومی سطح پر مکالمے کا عندیہ دیا تھا۔پاکستانی صدر اس وقت دورہ ترکی پر ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان اور اسرائیل کے وزرائے خارجہ نے پہلی ملاقات ترکی میں ہی کی تھی۔ پہلی مرتبہ اس بات کا اعتراف ستمبر 2005 میں کیا گیا تھا۔ملاقات کے بعد پاکستان کے اس وقت کے وزیرِ خارجہ خورشید قصوری نے کہا تھا کہ پاکستان غزہ سے اسرائیل کے انخلا کے بعد اسرائیل سے رابطہ کرے گا۔استنبول میں اسرائیل کے وزیرِ خارجہ سلوان شلوم نے بھی پاکستانی وزیرِ خارجہ کے ساتھ ملاقات کو ‘تاریخی’ قرار دیا تھا۔تاہم انھوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ یہ بات چیت ‘پاکستان کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات استوار’ کرنے میں مددگار ثابت ہو گی۔جب اس ملاقات کے حوالے سے پاکستان میں اسلامی جماعتوں نے مظاہرے کیے تو پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان صرف اسی صورت میں اسرائیل کو تسلیم کرے گا جب فلسطین کی ریاست وجود میں آئے گی اور اس کا دارالحکومت یروشلم ہو گا۔

دمشق کے نیشنل میوزیم کے دروازے دوبارہ کھل گئے
دمشق ،29اکتوبر( اے یوایس) شام کے نیشنل میوزیم کا کچھ حصہ خانہ جنگی کے باعث چھ سال تک بند رہنے کے بعد عوام کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔دمشق میں واقع دنیا کا یہ معروف عجائب گھر سنہ 2012 میں بند کر دیا گیا تھا تاکہ یہاں رکھی گئی پیش قیمت نوادرات کو محفوظ رکھا جا سکے۔تحفظ کے پیش نظر بہت سارے نوادرات کو یہاں سے ایک خفیہ مقام منتقل کر دیا گیا تھا۔عجائب گھر دوبارہ کھولنے کا فیصلہ ایک وقت میں کیا گیا ہے جب جنگ زدہ ملک شام کی حکومت حالات کو دوبارہ معمول پر لا رہی ہے۔رواں سال کے آغاز میں صدر بشار الاسد کی افواج نے دارالحکومت پر مکمل طور پر اپنا کنٹرول سنبھال لیا تھا تاہم ملک کے کچھ حصوں اب بھی لڑائی جاری ہے۔شام میں سات سال سے جاری خانہ جنگی سے ساڑھے تین لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے جبکہ ملک کے کئی تاریخی شہر اور مقامات تباہی کا نشانہ بنے۔خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق شامی وزیر ثقافت محمد الاحمد نے کہا ہے کہ عجائب گھر کا دوبارہ کھلنا یہ پیغام دیتا ہے کہ ملک کی ثقافتی ورثہ ‘دہشت گردی’ سے تباہ نہیں ہوا ہے۔اتوار کا عجائب گھر کا صرف ایک حصہ عوام کے لیے کھولا گیا ہے تاہم عجائب گھر کے ڈپٹی ڈائریکٹر کا کہنا ہے حکام پورے عجائب گھر کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے کام کر رہے ہیں۔احمد دیب نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ‘ہم قبل از تاریخ، قدیم مشرقی اور کلاسیکل اور اسلامی ادوار تک تمام ادوار کے نواردرات اس حصے میں نمائش کے لیے پیش کریں گے۔’عجائب گھر کے باغات پہلے بھی عوام کے لیے کھلے تھے لیکن اس کی عمارت بند رہتی تھی کیونکہ دمشق پر حکومت مخالفت باغی راکٹ حملے کر رہے تھے۔خیال رہے کہ شام اپنے محل وقوع کے لحاظ سے قدیم دور سے اہمیت کا حامل رہا ہے اور اس کا شمار قدیم تجارتی راستوں میں ہوتا ہے۔ شام اپنی متوع ثقافت اور تاریخی ورثے کے حوالے سے بھی شہرت رکھتا ہے۔اس کے کچھ مشہور تاریخی مقامات جیسا کہ یونیسکو کی جانب سے عالمی تاریخی ورثہ قرار دیا گیا شہر پلمائرا شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے قبضے میں چلاگیا تھا اور اس کا کچھ حصہ تباہ بھی ہوا تھا۔قدیم شہر حلب بھی مسلسل لڑائی سے تباہی کا نشانہ بنا ہے۔یہ بھی شبہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ شام کے تنازع کے آغاز سے نامعلوم تعداد میں نوادرات کو بیرون ملک سمگل کر کے فروخت کیا گیا ہے۔سرکاری حکام کا کہنا ہے جنگجوؤں کے زیرانتظام علاقوں اور سرحد سے ہزاروں کی تعداد میں نوادرات کو دوبارہ حاصل کیا گیا ہے۔رواں ماہ کے آغاز میں سینکڑوں کی تعداد میں ایسے ہی نوادرات دمشق کے اوپرا ہاؤس میں نمائش کے لیے پیش کی گئی تھیں۔

یہودی عبادت گاہ میں فائرنگ ’’نفرت پر مبنی جرم‘‘ قرار
واشنگٹن،29اکتوبر ( اے یوایس ) امریکی شہر پٹس برگ کے سناگاگ میں اتوار کے روز ہونے والے شوٹنگ کے واقعے کی تحقیقات کرنے والے اہلکاروں نے اسے ’نفرت پر مبنی جرم‘ قرار دیا ہے۔ اْن کا کہنا ہے کہ شوٹر نے یہود مخالف نعرے لگاتے ہوئے عبادت کرنے والے یہودیوں پر فائر کھول دیا تھا۔ شوٹنگ کے اس واقعے میں 11 یہودی عبادتگزار ہلاک اور چھ دیگر زخمی ہو گئے تھے۔شوٹنگ کا مبینہ ملزم رابرٹ گریگری بوئرز AR۔15 حملہ ا?ور رائفل اور تین دستی بموں سے مسلح تھا اور وہ وہاں موجود تمام یہودیوں کو ہلاک کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ اس واقعے کے سلسلے میں درج کی گئی رپورٹ کے مطابق حملہ ا?ور شخص کا کہنا تھا کہ ’’یہودی اْس کے لوگوں کا قتل عام کر رہے تھے۔‘‘ بتایا جاتا ہے کہ حملہ آور کا خیال تھا کہ غیر ملکیوں کو امریکہ داخل ہونے میں مدد دینے والی یہودی ریفیوجی ایجنسی نے غیر یہودی امریکیوں کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔46 سالہ حملہ آور نے اس حملے سے چند منٹ پہلے ایک آن لائن پیغام میں کہا تھا کہ یہودی تارکین وطن کے وطن کو مدد فراہم کرنے والے مذکورہ ایجنسی ایسے لوگوں کو امریکہ میں داخل کرنا پسند کرتی ہے جو یہاں کے لوگوں کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔ اْس نے پیغام میں مزید کہا کہ وہ اپنے لوگوں کا قتل عام ہوتا نہیں دیکھ سکتا۔ لہذا وہ اندر جا رہا ہے۔ویسٹرن پین سلوانیا میں امریکی اٹارنی سکاٹ بریڈی نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ وہ اس واقعے کی ’نفرت پر مبنی‘ واقعے کے طور پر تحقیقات کر رہے ہیں۔سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں 8 مرد اور تین خواتین شامل ہیں جن کی عمریں 54 سے 97 سال کے درمیان تھیں جبکہ زخمی ہونے والے چھ افراد میں چار پولیس افسر بھی شامل ہیں۔حملہ آور بوئرز کو گولی لگنے کے بعد ہسپتال میں داخل کر دیا گیا تھا۔ اْس پر مجرمانہ قتل عام کے 11 ، قتل کے ارادے سے حملہ کرنے کے چھ اور نسلی امتیاز برتنے کے 13 الزامات عائد کئے گئے ہیں۔

بنوں میں پشتون تحفظ تحریک کا بڑا جلسہ
پشاور ،29اکتوبر( اے یوایس ) پاکستان میں رہنے والے پشتونوں کے حقوق کے لئے شروع کی گئی تحریک پشتون تحفظ موومنٹ نے خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں جلسہ منعقد کیا جس میں ملک بھر سے آئے پشتونوں کے علاوہ سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔شرکاء4 میں ایک بڑی تعداد نے اپنے پیاروں کی تصاویر اْٹھائی ہوئی تھیں جو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنے گھروں سے نامعلوم وجوہات کی بنا پر گمشدہ ہیں۔پشتون تحفظ موومنٹ پانچ مطالبات لے کر نکلی ہے جس میں نقیب اللہ قتل میں ملوث ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو سزا دلوانا، گمشدہ افراد کی واپسی و عدالتوں میں پیشی، ماورائے عدالت قتل افراد کے لئے عدلتی کمیشن کا قیام، قبائلی علاقوں سے بارودی سرنگوں کی صفائی اور آرمی چیک پوسٹوں پر پشتونوں کی تذلیل روکنا شامل ہیں۔وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے پی ٹی ایم کے رہنما اور قومی اسمبلی کے ممبر محسن داوڑ نے کہا کہ ان انتہائی کم وسائل اور مشکلات کے باوجود لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ ہمارے مطالبات کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے اس جلسے کو ضلع بنوں کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو سمجھتے تھے کہ ہماری تحریک ختم ہوگئی تو یہ جلسہ ان کے لئے “عملی جواب” ہے۔اس موقع پر پشتون تحفظ موومنٹ کی کور کمیٹی کی ممبر ثناء4 اعجاز نے وائس اف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس ریاستی اداروں نے انہیں ہراساں کیا اور جہاں بھی ہم جاتے ان کے لوگ ہمیں تنگ کرتے اور کام کرنے نہیں دیتے تھے۔انہوں نے کہا کہ پشتون روایات ہیں کہ عورت گھر کی چاردیواری میں رہتی ہے مگر ہم نیبنیادی انسانی حقوق کے حصول کی خاطر اپنی رویت بدل ڈالی۔پاکستان میں میڈیا سنسر شپ کے باعث قومی میڈیا میں پشتون تحفظ موومنٹ کو کوریج نہیں جاتی، جس کے حل کے لئے تحریک کے کارکنان سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہیں مگر جلسے کے اطراف میں انٹرنیٹ سروس کو معطل کردیا گیا تھا جس کے باعث سوشل میڈیا پر کوریج میں مشکلات پیش آئی۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے تحریک کے بانی منظور پشتین نے کہا کہ ہم عدم تشدد کے فلسفے پر یقین رکھتے ہیں اور پاکستان میں پشتونوں کے لئے پرامن طریقے سیحقوق لینے کے لئے جلسے کرتے رہینگے۔ تاہم انہوں نے یہ بات دہرائی کہ ریاست انہیں حقوق دینے کے بجائے مختلف طریقوں سے تنگ کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے کارکنوں کو گرفتار کیا جاتا ہے۔ ان کے خلاف جھوٹے مقدمے بنائے جاتے ہیں۔پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین نے وائس آف امریکہ کی ڈیوا سروس سے بات کرتے ہوئے پاکستانی میڈیا پر پشتون تحفظ تحریک کے جلسوں اور مظاہروں کو اپنی نشریات میں جگہ نہ دینے پر نکتہ چینی کی اور کہا کہ اس سے تحریک کو کوئی نقصان نہیں ہو گا۔منظور پشتین نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ نہ صرف پاکستان کے بلکہ دنیا بھر کے پشتون انکے ساتھ ہیں اور جب تک انکے مطالبات مانے نہیں جاتے، انکے پرامن مظاہرے جاری رہیں گے۔جلسے میں وزیرستان سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے ممبر علی وزیر اور محسن داوڑ بھی موجود تھے جنہیں پی ٹی ایم سے الیکشن میں حصہ لینے کی وجہ سے تحریک کی کور کمیٹی سے ہٹا دیا تھا۔

لیبیا کے ایک قصبے پر داعش کا خون ریز حملہ ، 4 افراد ہلاک اور متعدد اغوا
طرابلس،29اکتوبر ( اے یوایس ) لیبیا میں داعش تنظیم نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب الجفرہ ضلعے کے قصبے “الفقہاء4 ” کو حملے کا نشانہ بنایا۔ اس کے نتیجے میں قصبے کی میونسپل کونسل کے سربراہ کے بیٹے سمیت 4 افراد ہلاک ہو گئے۔ علاوہ ازیں متعدد پولیس اہل کاروں کو بھی اغوا کر لیا گیا۔الجفرہ کی بلدیاتی کونسل نے پیر کی صبح بتایا کہ داعش تنظیم کے عناصر نے الفقہاء قصبے پر حملے کے دوران 25 مسلح گاڑیوں کا استعمال کیا۔حملہ آوروں نے ایک پولیس اسٹیشن، شہری دفاع کے مرکز، بلدیاتی محافظین کے صدر دفتر اور المدار موبائل فون نیٹ ورک کے اسٹیشن کو نذر آتش کر دیا۔بلدیاتی کونسل کے مطابق داعشی دہشت گردوں نے مقامی آبادی میں دہشت پھیلا کر علاقے سے واپسی کی راہ لی۔ اس دوران بعض گھروں کو آگ لگا دی گئی اور متعدد نوجوانوں کو اغوا کر لیا گیا جن کی درست تعداد معلوم نہیں ہو سکی۔الفقہاء4 کی بلدیاتی کونسل کے سربراہ نے علاقے کی صورت حال کو انتہائی افسوس ناک قرار دیتے ہوئے فوج سے مطالبہ کیا کہ وہ حملہ آوروں کا تعاقب کرے۔یاد رہے کہ داعش کے اس حملے سے دو ہفتے قبل لیبیا کی فوج نے ملک میں تنظیم کے ایک اہم لیبیائی رہ نما جمعہ القرقعی کو گرفتار کر لیا تھا۔ادھر الجفرہ کے حلقے سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ اسماعیل الشریف نے دہشت گرد حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائی داعشی رہ نما جمعہ القرقعی اور ان کے ساتھی علی عبدالغنی الفیتوری کے پکڑے جانے کے جواب میں کی گئی ہے۔ دونوں افراد کو 16 اکتوبر کو الفقہاء4 کے نزدیک واقع الہاروج کے پہاڑی سلسلے سے حراست میں لیا گیا تھا۔ الشریف کا مزید کہنا تھا کہ “ہم پہلے ہی اس بات سے خبردار کر چکے ہیں کہ الہاروج کے علاقے میں سکیورٹی کی صورت حال انتہائی کمزور ہے۔ یہ علاقہ اْن تمام تنظیموں اور ٹولیوں کی پناہ گاہ ہے جو اغوا، قتل، منشیات اور انسانوں کی تجارت میں ملوث ہیں”۔

یمن:لڑائی، فضائی حملوں میں 40 حوثی شدت پسند ہلاک
صنعاء،29اکتوبر( اے یوایس) یمن میں جاری لڑائی اور عرب اتحادی جنگی طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں کم سے کم 40 حوثی باغی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔العربیہ ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق اتحادی فوج کے طیاروں?نے اتوار کی شام الحدیدہ شہر کو بھیجی گئی ایک کمک کو نشانہ بنایا۔ اس کیعلوہ سرکاری فوج نے دارالحکومت صنعاء4 اور الحدیدہ شہر کو ملانے والی شاہراہ پر 10 سے 16 کلو میٹر کے علاقے پر باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی۔ ان واقعات میں درجنوں حوثی شدت پسند ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔یمن کے عسکری ذرائع کے مطابق عمالقہ فورسزنے جنوب مشرقی الحدیدہ میں فوجی کارروائی کے دوران باغیوں کے ٹھکانوں پر بم باری کی جس میں متعدد باغی ہلاک اور زخمی ہوگئے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سرکاری فوج اور باغیوں کے درمیان صنعاء4 سے 16 کلو میٹر دور شاہراہ پر گھمسان کی لڑائی جاری ہے۔ بمباری میں حوثیوں کے کیمپ، رہائش گاہیں اور دیگر تنصیبات بھی نشانہ بنی ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ حوثی باغیوں کی طرف سے صنعاء4 سے الحدیدہ کو افرادی قوت اور اسلحہ کی کھیپ
بھیجنے کی کوشش کی گئی تھی جسے ناکام بنا دیا۔
نئی پابندیوں کی تلوار سَر پر، ایران انرجی ایکسچینج میں تیل فروخت کرنے لگا
تہران،29اکتوبر ( اے یوایس) ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق ایران نے نِجی کمپنیوں کو10 لاکھ بیرل خام تیل کی فروخت کے لیے انرجی ایکسچینج کا سہارا لے لیا ہے۔ تہران کی جانب سے فی بیرل قیمت 74.85 ڈالر رکھی گئی جو ابتدائی مطلوبہ قیمت سے چار ڈالر کم ہے۔ ایران کی جانب سے ایکسچینج میں پیش کیے جانے والے مجموعی حجم میں سے 2.8 لاکھ بیرل فروخت ہو چکا ہے۔فارس ایجنسی کے مطابق یہ تیل نجی کمپنیوں کے ایک گروپ نے بروکروں کے ذریعے خریدا ہے تاہم ان کمپنیوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب تہران پر سخت ترین امریکی پابندیوں کے لاگو ہونے کی تاریخ نزدیک آ رہی ہے۔ یہ پابندیاں چار نومبر سے نافذ العمل ہو جائیں گی جس کے لیے امریکی وزیر خارجہ نے اپنی ویب سائٹ پر اْلٹی گنتی کا ایک کاؤنٹر بھی وضع کر دیا ہے۔ان پابندیوں میں ایرانی معیشت کے طاقت ور ترین سیکٹروں کو ہدف بنایا گیا ہے۔ ایرانی نظام اپنے خاص ایجنڈے کی پالیسیوں کو پھیلانے میں ان سیکٹروں سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔نئی پابندیوں کا تیر انرجی سیکٹر بالخصوص تیل کے شعبے کے قلب میں جا کر پیوست ہو گا۔ تہران کا یہ بنیادی ستون پابندیوں کے نافذ العمل ہونے سے پہلے ہی ڈانواں ڈول ہونا شروع ہو گیا ہے کیوں کہ کئی کمپنیاں ابھی سے ایرانی تیل کی خرید سے اجتناب برت رہی ہیں۔علاوہ ازیں نئی پابندیوں میں جہاز رانی اور بندرگاہوں کا شعبہ بھی نشانہ بنے گا جس میں جہاز سازی کی صنعت بھی شامل ہے۔ اس طرح تہران کو خطّے میں اپنے حلیفوں کے لیے اسلحے کی اسمگلنگ میں سخت مشکلات کا سامنا ہو گا۔ایران کا مالیاتی سیکٹر تو پابندیوں کے پہلے مرحلے سے ہی مشکلات سے دوچار ہے۔ دوسرے مرحلے میں ایرانی مرکزی بینک اور اس کے مالیاتی لین دین پر مزید قدغن عائد ہو جائے گی۔امریکی کانگریس کے نزدیک یہ تمام پابندیاں ناکافی ہیں۔ اسی لیے کانگریس کے سینئر ارکان اور اس کے باہر مشیروں کے ایک گروپ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تہران پر انتہائی دباؤ کے حوالے سے اپنا وعدہ پورا کریں۔ گروپ نے مطالبہ کیا ہے کہ پابندیوں میں بعض دیگر شقیں شامل کی جائیں۔ ایسی شقیں جو عالمی مالیاتی نظام سے ایران کی مکمل علاحدگی کو یقینی بنا دیں۔

حوثیوں کی نئی جدّت طرازی ، کھجور کے تنوں کی شکل میں بارودی سرنگیں
صنعاء،29اکتوبر( اے یوایس ) یمن میں باغی حوثی ملیشیا کی جانب سے بارودی سرنگیں بچھانے کے عمل میں نت نئی فن کاریاں سامنے آ رہی ہیں۔ ان بارودی سرنگوں کے سبب روزانہ متعدد افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔اس حوالے سے حوثیوں نے اپنی تازہ ترین جدّت طرازی میں “کھجور کے درخت کے تنوں” کی شکل میں دھماکا خیز آلات اور بارودی سرنگیں نصب کرنا شروع کر دی ہیں۔یمنی فوج میں العمالقہ بریگیڈز کے میڈیا سینٹر کے مطابق حوثی ملیشیا نے الحدیدہ صوبے میں “کیلو 16” کے علاقے کے نزدیک شہریوں کے کھیتوں میں کھجور کے تنوں کی شکل میں دھماکا خیز مواد اور آلات نصب کیے۔ تاہم یمنی فوج کی انجینئرنگ ٹیم نے ان کا پتہ چلا کر تمام مواد کو ناکارہ بنا دیا۔اس سلسلے میں جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ دھماکا خیز آلات کو ایرانی تجربے سے استفادہ کرتے ہوئے کھجور کے تنوں کی شکل میں تیار کیا گیا۔ یاد رہے کہ حوثی ملیشیا نے مغربی ساحل کے علاقے میں ہزاروں بارودی سرنگیں اور دھماکا خیز آلات نصب کیے تھے جن کے سبب سیکڑوں یمنی شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔دوسری جانب العمالقہ بریگیڈز کی انجینئرنگ ٹیم نے اْن لاکھوں بارودی سرنگوں اور دھماکا خیز آلات کو ناکارہ بنایا جن کو حوثی ملیشیا نے عام راستوں، شہریوں کے کھیتوں، اسکلوں مساجد اور لوگوں کے گھروں میں بچھایا اور نصب کیا تھا۔یمن کے صوبے الجوف میں اتوار کے روز انسانی حقوق کے بیورو کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ حوثیوں کی جانب سے صوبے میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کے نتیجے میں 713 شہری جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق بارودی سرنگوں کا شکار افراد کی تعداد کے لحاظ سے الجوف کا یمن میں چوتھا نمبر رہا۔ یہاں 183 کے قریب افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 300 سے زیادہ کا حْلیہ بگڑ گیا۔رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا کہ ان بارودی سرنگوں سے شہریوں کو بچانے کے لیے فوری طور پر حرکت میں آیا جائے جو ابھی تک رہائشی علاقوں میں ایک بڑا خطرہ بنی ہوئی ہیں۔

صدی کی ڈیل’ سازش ہے جسے کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا: محمود عباس
رملہ ،29اکتوبر( اے یوایس ) فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے امریکا کی طرف سے فلسطین۔ اسرائیل تنازع کے حل کے حوالے سے مجوزہ امن منصوبے “صدی کی ڈیل” کو مسترد کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اعلان بالفور سمجھوتا گذر گیا مگر صدی کی ڈیل کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔صدر عباس نے رام اللہ میں منعقدہ مرکزی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ اعلان بالفور ہی مسئلے کی جڑ ہے۔ اعلان بالفور ہوچکا مگر صدی کی ڈیل نہیں ہونے دی جائے گی۔خیال رہے کہ برطانوی وزیر خارجہ لارڈ ارتھر بلفورڈ نے 1917 کو فلسطین میںیہودیوں کے قومی وطن کے قیام کی منظوری دی تھی جسے “اعلان بالفور” کا نام دیا گیا۔فلسطینی صدر نے مرکزی کونسل کے ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس وقت تاریخ کے نازک مرحلے میں ہیں۔ آپ کو نئی ڈیل کے خطرات کے بارے میں باخبر رہنا ہوگا۔ امریکا ایک یا دو ماہ میں یہ منصوبہ پیش کردے گا،مگر ہم یہ باور کراتے ہیں کہ امریکا کے کسی سازشی منصوبے کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔انہوں نے امریکا کی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکیوں نے بیت المقدس اسرائیل کے حوالے کیا، امریکی سفارت خانہ القدس منتقل کیا گیا، فلسطینی پناہ گزینوں کے مالی حقوق غصب کیے۔ وہ فلسطینی پناہ گزینوں کی تعداد 60 لاکھ سے کم کر کے صرف 40 ہزار کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے غزہ کی حکمران حماس پر بھی سخت تنقید کی اور کہا کہ حماس دشمن کے افکار کے ساتھ مل کر غزہ کو الگ ریاست بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دشمن یہ چاہتا ہے کہ غزہ اور غرب اردن کو ایک دوسرے سے الگ تھلگ کردیا جائے، حماس دشمن کے منصوبوں کو آگے بڑھا رہی ہے۔صدر عباس نے کہا کہ القدس اور فلسطین برائے فروخت املاک نہیں۔ غزہ کی پٹی کے بغیر فلسطین نامکمل ہے۔ ہم عبوری سرحدوں پر مشتمل ریاست کی کسی تجویز کو قبول نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کے اہل خانہ اور شہداء کے خاندانوں کی کفالیت جاری رکھی جائے گی۔

پولینڈ کا جرمنی سے عالمی جنگ کی تباہی کا ہرجانہ ادار کرنے کا مطالبہ
وارسا،29اکتوبر( اے یوایس) پولینڈ کے صدرانڈریے ڈوڈا نے ایک بار دوسری عالمی جنگ کے دوران ہونے والی تباہی اور بربادی کا ذمہدار جرمنی کوٹھہراتے ہوئے برلن سے ہرجانہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔خیال رہے کہ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے ہیکہ جب برلن اور وارس کے درمیان مذاکرات کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔جرمن اخبار “بیلڈ” کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پولینڈ کے صدر نے کہا کہ میرے خیال میں دوسری عالم جنگ میں پولینڈ کو جس تباہی کا سامنا کرنا پڑا تھا، اس کے ازالے کے لیے ہرجانے کا مطالبہ اب بھی موجود ہے اور یہ باب بند نہیں ہوا ہے۔انہوں نے سابق صدر لیش کچنسکی اور پارلیمنٹ کی طرف سے جاری کردہ اس بیان کا حوالہ دیاجس میں بتاگیا تھا کہ جرمنی نے پولینڈ کو دوسری عالمی جنگ کے دوران پہنچنے والے نقصان کا ازالہ نہیں کیا ہے۔ جرمن فوج نے وارسو کے ایک ایک گھر کو بموں اڑا دیا تھا۔خیال رہے کہ گذشتہ برس جب پولینڈ کی طرف سے جرمنی سے ایسا ہی مطالبہ کیا گیا تھا تو جرمنی نے یہ کہہ کر ہرجانے کا مطالبہ مسترد کردیا تھا پولینڈ نے 1953 میں ہرجانیکا مطالبہ واپس لے لیا تھا۔

امریکا: یہودی معبد میں قتل عام دہشت گردی ہے: رابطہ عالم اسلامی
واشنگٹن ،29اکتوبر( اے یوایس) رابطہ عالم اسلامی نے امریکی ریاست پنسلوینیا میں ایک یہودی عبادت گاہ میں فائرنگ اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں پر گہرے دکھ کا اظہار کیاہے۔ رابطہ عالم اسلامی کا کہنا ہے کہ یہودی معبد میں فائرنگ کا واقعہ دہشت گردی ہے جس میں بے گناہ افراد کو قتل کیا گیا۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل الشیخ ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے پنسلوینیا کے شہر پیٹرز برگ میں یہودی معبد میں فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعزیت کی اور عبادت گاہ میں فائرنگ کے واقعے کو دہشت گردی قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ عبادت گاہوں میں نہتے افراد کو فائرنگ کا نشانہ بنانا دہشت گردی اور سنگین جرم ہے۔ ایسے افراد انسانیت کے خیر خواہ نہیں ہوسکتے۔ان کا کہنا تھا کہ معبد میں فائرنگ اور بے گناہوں کے قتل عام سے دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ میں کمی نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اور بھی اضافہ ہوگا۔خیال رہے کہ دو روزقبل امریکی ریاست پنسلوینیا میں ایک یہودی معبد میں فائرنگ کے واقعے میں 11 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

تحریک النہضہ کو تیونس کی حکومت میں شامل نہ کرنے کا مطالبہ
تیونسیا ،29اکتوبر ( اے یوایس ) تیونس کی ایک سرکردہ سیاسی جماعت “تحریک ندائے تیونس” نے مذہبی سیاسی جماعت تحریک النہضہ کو حکومت میں شامل نہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔العربیہ کے مطابق “تحریک نداء تیونس” کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ دوسری سیاسی جماعتوں کے ساتھ حکومت سازی کے لیے صلاح مشورہ کرے گی مگرتحریک النہضہ کو حکومت میں شامل کرنے کی کسی تجویز کو قبول نہیں کیا جائیگا۔جماعت کا کہنا ہے کہ النہضہ تیونس کے اہم اداروں پر قبضہ کرنا اور رائے عامہ کے فیصلے کو تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ندائے تیونس کے ایک رہ نما منجی الحرباوی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم یوسف الشاھد کی کابینہ میں تبدیلی کی جا رہی ہے مگر اس تبدیلی میں تحریک النہضہ کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ تحریک ندائے تیونس کا پارلیمانی بلاک تحریک النہضہ کو حکومت میں شامل کرنے کی حمایت نہیں کرے گا۔تیونسی رکن پارلیمں ٹ کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت اخوان المسلمون کی طرف جھکاؤ رکھتی ہے اور اس میں شامل وزراء4 اقتصادی، سماجی اور سیاسی مسائل کے حل میں ناکام رہے ہیں۔

مصر:وکیل نے ڈائس پرچڑھ کرجج کو جوتا دے مارا
قاہرہ،29اکتوبر ( اے یوایس ) مصرمیں مقدمات کی سماعت کے دوران ایک وکیل نے جج سے کسی بات پر اختلاف کرنے کے بعد ڈائس پر چڑھ کر اسے جوتا دے مارا۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یہ واقعہ جنوبی مصر کی المنیا گورنری میں ملوی اپیل کورٹ میں پیش آیا۔المنیا گورنری کے سیکیورٹی ڈائریکٹرمیجر جنرل مجدی عامر انہیں عمرو نامی ایک ایک وکیل کی جانب سے جج پرچڑھائی کی اطلاع ملی ہے۔ وکیل نے سابقہ اختلافات کی بناء4 پر ڈائس پرچڑھ کر جج کو جوتا دے مارا۔انہوں نے بتایا کہ دونوں کے درمیان پہلے سے اختلافات چل رہے تھے۔ جج نے وکیل کو گرفتار کرکے اپنے سامنے پیش کرنے کا حکم دیاتھا۔ دوسری جانب وکیل نے سوشل میڈیا پرمخالف جج کی کردار کشی کی مہم شروع کر رکھی تھی اور الزام عاید کیا تھا کہ جج بیوہ عورتوں، خواتین اور بے گناہ شہریوں کے خلاف ظالمانہ فیصلے صادر کر رہا ہے۔پولیس نے ملزم کو حراست میں لے لیا ہے اور چار روز تک کا ریمانڈ حاصل کرنے کے بعد تفتیش شروع کردی ہے۔درایں اثناء مصر کے جوڈیشل کلب کی طرف سے جاری ایک بیان میں جج کو جوتا مارنے کی شدید مذمت کی ہے۔ جوڈیشل کلب کے ترجمان رضا محمود السید نے ایک بیان میں کہا کہ ایک جج کو جوتا مارا کسی ایک فرد کی توہین نہیں بلکہ یہ پوری ریاست اور عدلیہ کی توہین کے مترادف ہے۔

جب صدر پاکستان ٹکٹ لینے کے لیے قطار میں لگ گئے
!

اسلام آباد ،29اکتوبر ( اے یوایس ) حال ہی میں اسلام آباد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ملازمین اس وقت حیران رہ گئے جب انہوں نے دیکھا کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی ٹکٹ کے حصول کے لیے کسی پروٹوکول کے بجائے عام مسافروں کے درمیان قطار میں کھڑے ہیں۔ ان کے ساتھ نہ تو کوئی سرکاری افسر موجود ہے اور نہ انہوں نے خود کو صدر مملکت ظاہر کرنے کی کوئی کوشش کی۔صدر ڈاکٹر عارف علوی ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کی دعوت پر انقرہ رونہ ہوئے۔ ان کی اسلام آباد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بورڈنگ کارڈ کے حصول کی ایک فوٹیج ایک مقامی صحافی نے اپنے موبائل کے کیمرے میں بنائے جسے سوشل میڈیا پر بہت زیادہ شیئر کیا جا رہا ہے۔ فوٹیج میں صدر علوی ہوائی اڈے کے حکام سے بات کرتے سنے جا سکتے ہیں۔پیشے کے اعتبار سے عارف علوی ڈینٹیسٹ ہیں۔69 سالہ علوی کو 4 ستمبر کو پاکستان کا صدر منتخب کیا گیا۔ ان کی اہلیہ ثمینہ کو تین ہفتوں میں دو بار وسیع پروٹوکول کے ساتھ دیکھا گیا۔ ان کی کار کے آگے پیچھے کاروں کی قطاریں دیکھی گئی تھیں۔

یمن : حوثیوں کے دو دھڑوں کے درمیان باہمی لڑائی میں شدت
صنعاء،29اکتوبر ( اے یوایس ) ایران کے شمالی صوبوں صعدہ ، حجہ ، عمران اور دارالحکومت صنعاء کے مختلف علاقوں میں حوثی تحریک کے سربراہ عبدالملک الحوثی اور ان کے چچا عبدالعظیم الحوثی کے حامیوں کے درمیان جھڑپیں شدت اختیار کر گئی ہیں۔دونوں کے پیروکار باہم مسلح تصادم کے علاوہ ایک دوسرے کے حامیوں کو اغوا بھی کررہے ہیں۔صعدہ سے تعلق رکھنے والے قبائلی ذرائع نے بتایا ہے کہ عبدالملک الحوثی کی وفادار ملیشیا نے اسپتالوں سے عبدالعظیم کے وفادار دسیوں زخمی افراد کو اغوا کر لیا ہے۔ انھیں اب زیر حراست رکھا ہوا ہے اور رہا کرنے سے انکار کردیا ہے۔ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ عبدالعظیم الحوثی کے پیروکار عبدالملک الحوثی کی وفادار ملیشیا پر انتہاپسندی کی راہ پر چلنے اور ایران کا آلہ کار بننے کے الزامات عاید کررہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ یمن میں زیدی عقیدے کی قیمت پر ایرانی لیڈر آیت اللہ خمینی کے افکار وتعلیمات کی تشہیر کررہے ہیں۔عبدالعظیم زیدی شیعہ فرقے کے معتبرعالم مانے جاتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا کے اقدامات کا زیدی عقیدے سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ وہ حوثی جنگجوؤں کو چور اور ڈاکو قرار دیتے ہیں۔ وہ یمن میں ایران کی مداخلت کو مسترد کرتے ہیں۔وہ ایران کے زیدی عقیدے کے پیروکاروں پر دباؤ کے بھی شدید مخالف ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اس طرح یمن میں ایران کے مفادات کا تحفظ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

وزیراعظم بتائیں این آر او کون مانگ رہا ہے:نواز شریف
اسلام آباد ،29اکتوبر ( اے یوایس) سابق وزیر اعظم اور حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اْن کی جماعت کے ان افراد کے نام بتائیں جو کہ وزیر اعظم کے بقول حکومت سے ’این آر او‘ مانگ رہے ہیں۔پیر کے روز احتساب عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان اور متعدد وفاقی وزرا بارہا میڈیا پر آکر بیان دیتے ہیں کہ کسی کو این آر او یعنی مقدمات کے خاتمے کے لیے قومی مصالحتی آرڈینینس جاری نہیں کیا جائے گا۔میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ نہ تو اْنھوں نے اور نہ ہی ان کی جماعت کے کسی رکن نے مقدمات میں ریلیف حاصل کرنے کے لیے وزیر اعظم اور وفاقی وزرا سے رابطہ کیا ہے۔اْنھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اْن افراد کے نام بتائے جنہوں نے این آر او حاصل کرنے کے لیے ان سے رابطہ کیا ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ایک ٹی وی پروگرام میں انٹرویو دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ حزب مخالف کی دو بڑی جماعتوں کے رہنما این آر او کے لیے حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں تاہم اْنھوں نے ان رہنماوں کے نام نہیں بتائے۔واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بھی ان حکومتی دعووں کی تردید کی ہے کہ ان کی جماعت کی طرف سے ان پر درج ہونے والے مقدمات میں ریلیف حاصل کرنے کے لیے این آر او جاری کرنے کے لیے حکومت سے رابطہ کیا گیا ہے۔جمعیت عملائے اسلام کی طرف سے حزب مخالف کی جماعتوں کی بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ وہ اپنی اہلیہ کی وفات کی وجہ سے ابھی تک غم کی کیفیت میں ہیں اور ابھی تک وہ سیاست کی طرف واپس نہیں آرہے۔ اْنھوں نے کہا کہ اے پی سی میں شرکت کا فیصلہ میاں شہباز شریف سے ملاقات کے بعد کریں گے۔اْنھوں نے اپنے چھوٹے بھائی اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی گرفتاری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صاف پانی کے منصوبوں میں نیب کو کچھ نہیں ملا تو اْنھیں آشیانہ ہاوسنگ سکیم میں گرفتار کرلیا گیا اور اب آشیانہ ہاوسنگ سکیم میں کچھ نہیں نکلا تو اْنھیں آمدن سے زیادہ اثاثوں کے مقدمے میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت احتساب کی آڑ میں حزب مخالف کی جماعتوں کو انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Ad
Ad
Ad

MARQUEE

US school students discuss ways to gun control

             Students  discuss strategies on legislation, communities, schools, and mental health and ...

3000-year-old relics found in Saudi Arabia

Jarash, near Abha in saudi Arabia is among the most important archaeological sites in Asir province Excavat ...

Ad

@Powered By: Logicsart